احسن ایمرے لاہوری Ahsan Emre Lahori
بابا احسن ایمرے لاہوری صوفی شاعر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا اصل نام شہزادہ محمد احسان ہے۔ آپ لاہور شہر کے سنگم میں موجود بادشاہی مسجد کے قریب پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش 15 جون 1985 ہے۔ آپ کا آبائی گھر علاقہ کوٹ عبدالمالک میں ہے جو کہ لاہور شہر اور شیخوپورہ شہر کے وسط میں ہے۔ علاقہ کوٹ عبدالمالک سے ہی اعظم چشتی صاحب کا تعلق ہے اور اسی علاقے سے بابا جماعت علی شاہ عرف نوری بوری والی سرکار اور بہت سے اور نامور لوگوں کا تعلق ہے۔
آپ مغل خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ کے خاندانی سلسلا پندرویں صدی میں فتوی بیگ مغل خاندان سے ملتا ہے۔ آپ کی کنیت شہزادہ محمد احسان بن دلشاد احمد بن فیروز دین بن رکن دین بن خیر الدین بن بشیر الدین بن فتوی بیگ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم آبائی مکتب سے حاصل کی۔ قرآن کی تعلیم بریلوی سلسلہ کے عالم سے حاصل کی ۔ اپنی عمر کے ایک حصہ تک آپ دیوبند سلسلہ کے عالموں کے زیر اثر رہے۔
سال 2012 کے بعد آپ نا معلوم جگہ پر چلے گئے اور گمنامی کی زندگی گزارنے لگے۔ احسن ایمرے لاہوری لوگوں کے مدد کرنے والے اور اپنے ہاتھ سے کمانے والے انسان ہیں۔ انہوں نے زندگی میں نا کسی مشاعرے میں حصہ لیا اور نا کبھی لوگوں سے داد اکٹھی کی۔ آپ ترکوں کے صوفی شاعرحضرت یونس ایمرے اور پیر احمد یسوی سے متاثر اور مرید ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں اُردو اور پنجابی زبان میں سینکڑوں حمد، نعت رسول، صوفیانہ کلام، پنجابی کلام، قوالیاں لکھیں۔ آپ کی مشہور کتب دیوان احسن ایمرے لاہوری اور فلسفہ محبت ہے۔ آپ کے اشعار کا مکمل مجموعہ ابھی تک دستیاب نہیں۔ جلد یا بدیر ہم ان کا مکمل مجموعہ منظر عام پر لائیں گے۔
Ahsan Emre Lahori is a Sufi Poet. His real name is Shahzada Muhammad Ahsan and he was born on 15 June 1985 in a small town Kot Abdul Malik near Lahore, Pakistan. He belongs to a Mughal Family. He moved to some unknown place since 2012. He wrote hundreds of Sufiana Kalam, Qawwali & Punjabi Kalaam. His Sufi Kalam book name is 'Kalam E Ahsan Emre Lahori'. He also wrote many Naat E Rasool SAW.
مجموعہ کلام و روابط | Works & Collections
پنجابی کلام : احسن ایمرے لاہوری | Punjabi Kalaam : Ahsan Emre Lahori
- الف دے عشق نے راز بتایا
- الف اللہ رب دا نام لئیے
- اکو تیری آس خدایا تے تو ہی سب دا سنگی
- اول حمد خداوند تائیں ۔ تو ہی سب دا سائیں
- اک میلہ لایا رب نے
- اُچا بول نا بولیں بندیا
- اساں ویکھیاں لکھاں قبراں ۔ اساں ویکھے لکھ مزار
- ایویں عاشقاں تے نا ہسیا کر
- اپنے ہڈھ ہلایا کر
- اڈدا جاندا ۔ میں وانگ کبوتر
- اُس نوں کدھے نا عقل آندی
- اُس نوں کوئی نا عاقل آکھے
- اک مار لکیر عقل تے میری
- بیغیرتاں دے ٹولے نالوں
- باروں چمکن وانگ جیہڑے شیش محل
- پھل گلاب دے کھلدے ویکھے
- پیڑا چنگا کردے بندے
- پچھلی راتی موت ہوئی اے
- پیڑے چنگےنفساں وچوں
- پھل گلاب دے سوہنے لگدے
- پاکی پلیدی ۔ تے نسلی بے نسلی
- پیسہ جوڑ لئے اے مک جاندا
- پُھل گلاب دے کھلدے ویکھے
- تیری سوہنی صورت دِکھا سائیاں
- تنکا تنکا اکٹھا کرکے
- تو جناں مرضی میلے لا لے
- تو جناں مرضی نس بجھ لے