خسرو دریا پریم کا، الٹی وا کی دھار ۔
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار ۔۔
کھیر پکایی جتن سے، چرکھا دیا جلا ۔
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا ۔۔
گوری سووے سیج پر، مکھ پے ڈارے کیس ۔
چل خسرو گھر آپنے، سانجھ بھیی چہُ دیس ۔۔
خسرو مولٰی کے روٹھتے، پیر کے سرنے جای ۔
کہے خسرو پیر کے روٹھتے، مولٰی نہں ہوت سہای ۔۔
رینی چڑھی رسول کی سو رنگ مولٰی کے ہاتھ ۔
جسکے کپرے رنگ دئے سو دھن دھن واقعے بھاگ ۔۔
خسرو باجی پریم کی میں کھیلوں پی کے سنگ ۔
جیت گیی تو پییا مورے ہاری پی کے سنگ ۔۔
چکوا چکوی دو جنے ان مت مارو کوی ۔۔
یہ مارے کرتار کے رین بچھویا ہوی ۔۔
خسرو ایسی پیت کر جیسی ہندو جوی ۔
پوت پرائے کارنے جل جل کویلا ہوی ۔۔
اجول برن ادھین تن ایک چتّ دو دھیان ۔
دیکھن میں تو سادھ ہے پر نپٹ پاپ کی خان ۔۔
شیام سیت گوری لئے جنمت بھئی انیت ۔
ایک پل میں پھر جات ہے جوگی کاکے میت ۔۔
ندی کنارے میں کھڑی سو پانی جھلمل ہوی ۔
پی گورے میں سانوری اب کس ودھ ملنا ہوی ۔۔
ساجن یہ مت جانییو توہے بچھڑت موہے کو چین ۔
دیا جلت ہے رات میں اور جیا جلت دن رین ۔۔
رین بنا جگ دکھی اور دکھی چندر بن رین ۔
تم بن ساجن میں دکھی اور دکھی درس بن نینن ۔۔
انگنا تو پربت بھیو، دیہری بھئی ودیس ۔
جا بابل گھر آپنے، میں چلی پیا کے دیس ۔۔
آ ساجن مورے نینن میں، سو پلک ڈھانپ توہے دوں ۔
ن میں دیکھوں عورن کو، ن توہے دیکھن دوں ۔۔
اپنی چھوی بنائی کہ میں تو پی کے پاس گئی ۔
جب چھوی دیکھی پیہو کی سو اپنی بھول گئی ۔۔
خسرو پاتی پریم کی برلا بانچے کوی ۔
وید، قرآن، پوتھی پڑھے، پریم بنا کا ہوی ۔۔
سنتوں کی نندا کرے، رکھے پر ناری سے ہیت ۔
وے نر ایسے جائینگے، جیسے رنریہی کا کھیت ۔۔
خسرو سریر سرائے ہے کیوں سووے سکھ چین ۔
کوچ نگارا سانس کا، باجت ہے دن رین ۔۔
بھائی رے ملاح جو ہم کوں پار اتار ۔
ہاتھ کا دیوونگی مندرا، گل کا دیووں ہار ۔۔